تحت ادراک

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - عقل کے تحت، سمجھ میں آجانے والی، قابل فہم۔ "(١) وہ چیزیں جو فوق الادراک ہیں اور انسان کے دائرہ علم میں نہیں آسکتیں (٢) وہ چیزیں جو تحتِ ادراک ہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، شعرالعجم ٢٤٩:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مرکب اضافی ہے۔ لفظ 'تَحت' کے ساتھ بطور مضاف الیہ اسم، ادراک' لگایا گیا ہے جو کہ باب افعال سے مصدر ہے۔ اردو میں ١٩٠٧ء کو "شعرالعجم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عقل کے تحت، سمجھ میں آجانے والی، قابل فہم۔ "(١) وہ چیزیں جو فوق الادراک ہیں اور انسان کے دائرہ علم میں نہیں آسکتیں (٢) وہ چیزیں جو تحتِ ادراک ہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، شعرالعجم ٢٤٩:١ )

جنس: مذکر